دل بے اماں نہ ستاؤ پھر ہمیں
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباددل بے اماں نہ ستاؤ پھر ہمیں
سرگوشیاں اس کی نہ سناؤ پھر ہمیں
بڑی قیمت چکائی ہے ہم نے خوابوں کی
بے تعبیر خوابوں کو نہ دکھاؤ پھر ہمیں
ہاں اس کے بن زندگی بہت ادھوری ہے
ضبط کچھ تو رہنے دو نہ آزماؤ پھر ہمیں
ابھی عروج پہ ہے اداسی اور درد سے شناسی
کچھ پل کو ٹھر جاؤ بہلاؤ پھر ہمیں
ہم کتنے عزیز ہیں تم سے قریب ہیں
مل کر تم کبھی بتاؤ پھر ہمیں
محبتوں سے میرے غم کی نفی کرو تم
امر کر دو یا مٹاؤ پھر ہمیں
سزاوار ء محبت ہیں ہم طالب وفاؤں کے
دل کی سچائیوں سے نبھاؤ پھر ہمیں
شاید کہ لوٹ آؤ تم بھی کسی روز
شاید کہ منتظر نہ پاؤ پھر ہمیں
ممکن ہے آنکھوں میں ہوں تمہارے مداوتیں
ممکن ہے تشنا لب نہ پاؤ پھر ہمیں
تمہیں فاصلوں کی طلب، ہمیں قربتوں میں قرار
واجب ہیں فاصلے تو بھلاؤ پھر ہمیں
اترو کبھی میرے دل کی ویرانیوں میں
لازم ہے چھوڑ کر نہ جاؤ پھر ہمیں
ہم روٹھ رہے ہیں آج پھر عنبر
آؤ کہ لوٹ کر مناؤ پھر ہمیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






