دل تو چاہتا ہے
Poet: Saleem Nasir By: Saleem Nasir, Lahoreآپ سب کے ذہنوں کو بیدار کرنا چاہتا ہوں
میں چند حقیقتیں آشکار کرنا چاہتا ہوں
کچھ صنف نازک کے بارے اظہار کرنا چاہتا ہوں
مانا کہ یہ ماہر ہیں دو کی سات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
آجکل کی لڑکیاں شوخ ہیں رنگین ہیں
سر تا پا ہیں چاند صورت دلکش دلنشین ہیں
بن سنور کے بےشک لگتی بالکل مہ جبین ہیں
بن میک اپ مترادف ہیں یہ دن میں رات کرنےکو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
یہ حسن کی دیویاں بات پہ اپنی اڑ جاتی ہیں
عزت ان کو راس نہیں خواہ مخواہ سر پہ چڑھ جاتی ہیں
لڑکوں سے آگے ہر شعبے میں جانے کیسے بڑھ جاتی ہیں
جانتی ہیں یہ اپنے حق میں سب حالات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
سب کچھ ہوتا ہے دنیا میں ہر اہلیت تول کے
یہ ہر کام کرا لیتی ہیں کچھ کچھ میٹھا بول کے
نمبر بھی دیتے ہیں ان کو سب ٹیچر دل کھول کے
بےشک بنتی ہیں یہ باعث خراب عادات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
اپنے سوا یہ سب کو بدھو جانتی ہیں
کوئی کچھ بھی کہے یہ کب کسی کی مانتی ہیں
یہ صرف اپنے مطلب کو پہچانتی ہیں
عادی ہیں یہ ہر قسمی خرافات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
ان کے دل میں کوئی گوشہ نرم نہیں
دین و ایمان کا انہیں کوئی بھرم نہیں
انہیں مختصر کپڑے پہنتے آتی شرم نہیں
انہیں فرصت نہیں یاد اپنی روایات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
خود کو ان کے شر سے بچانا مشکل ہے
بےشک ان کا ساتھ نبھانا مشکل ہے
لیکن ان سے دور بھی جانا مشکل ہے
لاکھ یہ قابل نہیں ملاقات کرنے کو
دل تو پھر بھی چاہتا ہے ان سے بات کرنے کو
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ







