ہم انکار کرتی ہیں
Poet: Saleem Nasir By: Saleem Nasir, Lahoreآج چند حقیقتیں میں بھی بتانا چاہتی ہوں
کون کتنے پانی میں ہے یہ سمجھانا چاہتی ہوں
ان لڑکوں کی اصلی صورت سب کو دکھانا چاہتی ہوں
یہ بھی بتانا چاہتی ہوں کہ ہم اظہار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
آجکل کے لڑکے بھی تو گھٹیا پن کو مانتے ہیں
یہ بھی تو صرف اپنے مطلب کو پہچانتے ہیں
بے شک یہ بھی ہر قسمی میک اپ کرنا جانتے ہیں
کچھ فرق نمایاں کرنے کو ہم سنگھار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ، ہم انکار کرتی ہیں
سچ ہے یہ ، ان کو بھی عزت راس نہیں
ہم اسی لیے تو ڈالتی ان کو گھاس نہیں
کہتے ہیں یہ ہم بیٹھتی ان کے پاس نہیں
ان کی یہ ہی باتیں تو ہمیں بیزار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم کیوں خواہ مخواہ ان سے ملاقات کریں
ہماری اپنی زندگی ہے جس سے چاہیں بات کریں
انہیں کون کہتا ہے کہ خراب اپنی عادات کریں
یہ بتائیں کونسی ہم بات بیکار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم اگر شیطان ہیں تو بےشک شر کی بات کریں
کون کیسی لگتی ہے خشک و تر کی بات کریں
ان کی مائیں بہنیں بھی ہیں اپنے گھر کی بات کریں
اپنی پاک دامنی کا ہم اقرار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
یہ اپنی سنگدلی کو چھوڑ کے گوشۂ نرم کی بات کریں
اپنے دامن میں جھانکیں اور پھر دھرم کی بات کریں
ہالی بالی وڈ کو چھوڑ کے کوچۂ حرم کی بات کریں
صنفِ نازک ہو کر بھی ہم سوچ بیچار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
ہم ہر مشکل میں ان کا ساتھ نبھائیں گی
ان کے لیے کلیوں کی سیج سجائیں گی
کچھ کر کے دکھائیں سر آنکھوں پہ بٹھائیں گی
کوئی کسی قابل ہو تو اس سے پیار کرتی ہیں
ان کے سارے الزامات کا ہم انکار کرتی ہیں
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






