دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلے
Poet: اسماعیل By: اسماعیل, Bahawalpurدل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلے
لطف ایسا نہیں آیا تھا سزا سے پہلے
ہائے انداز محبت بھی عجب تھا ان کا
کر رہے تھے وہ جفا مجھ پہ وفا سے پہلے
کس قدر تیری دعاؤں میں اثر تھا اے دوست
ہو گیا ہوں میں صحت یاب دوا سے پہلے
کیا بتاؤں تجھے ہمدم کہ تھا ابتر کتنا
حال میرا ترے دامن کی ہوا سے پہلے
بات یہ میری ذرا غور سے سن لو دانشؔ
کام کرنا نہ کوئی نام خدا سے پہلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






