دل تیرے پہ میں اپنا بسیرا چاہوں
Poet: ayesh By: ayesh, Peshawarدل تیرے پہ میں اپنا بسیرا چاہوں
تیری سوچ کے آنگن میں اترنا چاہوں
گیسوں کےسائےتلےقرب کااحساس لئے
سررکھ کہ تیری گودمیں سونا چاہوں
خواب تیرےدیکھتارہاہوں عمربھر
حقیقت میں تجھےچھوکہ دیکھناچاہوں
ہےگلاب چہرےپہ پھیلی ہوئی ویرانیاں
میں نوبہار میں اس کو بدلنا چاہوں
خیال یارسےکرتارہاباتیں تمام رات
کہ نہ پایاوہ بات جوکہناچاہوں
قدرت نےتمہیں سونپ تودیامجھکو
مرضی پھربھی تیری جانناچاہوں
تاحیات تیری یادمیں جیتارہاعائش
شانےپہ تیرےسررکھ کہ میں مرناچاہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






