دل دریا نہیں سمندر ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreدل دریا نہیں سمندر ہے کبھی اس سمندر میں اتر کر دیکھو
پرنم نگاہوں کے ہحر میں ڈولتے بھنور میں سفر کر دیکھو
عشق کیا ہے تلاطم خیز موجوں سے پوچھو زندگی کیا ہے
کہ اس بے نام ساکت زندگی کو عشق کی ہم سفر کر دیکھو
دل میں سچی لگن کا جذبہ پیدا کرو اور اسے پانے کی خاطر
بحر عشق میں اترو کبھی بپھری موجوں سے لڑ کر دیکھو
سمندر کی لہروں کے تصادم سے اٹھتی طغیانیوں کا منظر
نہیں دیکھا، تو یہ دلنشیں منظر کبھی بھر کر نظر دیکھو
گہرے سمندر کی طغیانیوں کے دھندلکوں میں پنہاں راز کو
سمندر سی گہری نگاہوں سے دیکھو اور نظر کا اثر دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







