دل سنبھالے کب سنبھلتے ہیں
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAرات کا تھا سناٹا
اور بادل تھا گرجا
ہوا نے خنکی لائی
دل میں ہلچل ہونے کو آئی
اک درد اُٹھا سینے میں
اور یاد کسی کی آئی
کروٹ بدل کے دیکھا
آنکھیں مسل کے دیکھا
سر جھٹک کے دیکھا
روشنی میں لپک کے دیکھا
وہ سماں پہ جیسے چھا گئی
رتوں کو بھی وہ رُلا گئی
چھم چھم بارش تھی
یا اس کے نیر بہے تھے
ہر قطرہ ٹپ ٹپ
میرے دل پہ گر رہا تھا
دل سنبھالے کب سنبھلتے ہیں
ان میں بسنے والے کب نکلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







