دل مرا اس بت پہ فدا ہو گیا

Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi

 دل مرا اس بت پہ فدا ہو گیا
کوئی تو بتلائے یہ کیا ہو گیا

سانس کا لینا بھی سزا ہو گیا
ہائے، یہ کیا میرے خدا ! ہو گیا

جام اسے پھر نہ عطا ہو سکا
پیر مغاں جس سے خفا ہو گیا

اک نئی مشکل میں یہ جاں پھنس گئی
ماجرا در پیش نیا ہو گیا

ایسے ہے ٹوٹے ہوئے دل کی صدا
جیسے کوئی نغمہ سرا ہو گیا

گردش ایام ! ترے فیض سے
دوست تھا، دشمن جو مرا ہو گیا

ہم رسن و دار تک آ ہی گئے
غمزہ ترا قہر و بلا ہو گیا

ختم نہ ہو پائے گی لو اس کی اب
اشکوں کا روشن جو دیا ہو گیا

دیکھئے اس بت کی ستم پروری
نام وفا سن کے خفا ہو گیا

وہ جو سر بزم ہوئے مضمحل
سمجھو مرا نالہ رسا ہو گیا

جاتی رہی رسم سلام و دعا
ایسا بھی کیا کار خطا ہو گیا

ہم سے فقیران وفا خو کو ، تو
طعنہ بھی حرف دعا ہو گیا

کہتے ہیں رومی ! اسے معراج شوق
موجہ خوں ، رنگ حنا ہو گیا

Rate it:
Views: 722
05 Apr, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL