دل میرا توڑنے والے
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliکیا ہوا ہے تجھے، یوں دل مرا توڑنے والے
تم تو ایسے نہ تھے ، یوں مجھ کو چھوڑنے والے
وہ وقت کتنا عجیب تھا، جب میں ترا اتنا قریب تھا
رہ سکتا نہ تھا تُو میرے بنا ، سمجھتا مجھے تُو اپنا نصیب تھا
توڑ کر مجھے سے ، ناطہ اووروں سے جوڑنے والے
مری ایک جھلک کو تُو اپنی عید کہتا تھا
مر جاؤں گااُس دن، جب نہ ہو تری دید کہتا تھا
آج مجھے دیکھ کر ، یوں رُخ اپنا موڑنے والے
دیکھتا نہ تھا کسے تُو مرے بنا، چاہتا نہ تھا کسے تُو مرے بنا
پکڑ کر ہاتھ کو مرے ، یوں پھر چھوڑنے والے
عمر ساری چلیں گے قدم سے قدم ملا کر
محبت کی راہ پہ چلیں گے سب کشتیاں جلا کر
یہ عہد تُو نے کیا تھا ، راہ آج اپنا موڑنے والے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






