دل میں آج بھی یہی گمان رہتا ہے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaدل میں آج بھی یہی گمان رہتا ہے
وہ مری خاطر ہی پریشان رہتا ہے
دی تو ہے اُس نے مجھے غمِ برسات
اُس کی نظروں میں طوفان رہتا ہے
جب سے وہ محبت کے دیئے بجھا کے گیا
پھر بھی اک روشنائی کا امکان رہتا ہے
جو چلا گیا رشتوں کی دوڑ توڑ کے
جیسے مری رگوں میں وہ بن کے جان رہتا ہے
اِک پھول کو چُرا کے اِک چور لے گیا
بے چارہ غم زدہ اُس کا باغبان رہتا ہے
اِک مسافر آیا اُس کے شہر سے کل
بتایا اُس نے وہ بھی اب مری طرح ویران رہتا ہے
جب تھا میں بے گھر اُس نے دل میں جگہ دی
ہر ستم بھول کے یاد یہی احسان رہتا ہے
مرے شہر سے اِک شخص کیا گیا نہال جی
سارے کا سارا شہر اب سنسان رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






