دل میں الفت کا ہے ارمان تو ملنے آنا
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanدل میں الفت کا ہے ارمان تو ملنے آنا
میری ہو جائے جو پہچان تو ملنے آنا
دوستوں سے بھی کروں گا نہ کبھی ذکر ترا
مجھ پہ تھوڑا سا بھی ہے مان تو ملنے آنا
گر ہو رسوائی کا ڈر گھر سے نکلنا نہ کبھی
ہاں اگر ملنا ہو آسان تو ملنے آنا
بھیگے موسم میں محبت کا مزہ ااپنا ہے
جب بھی بارش کا ہو امکان تو ملنے آنا
درد دینا نہ اسے پیار سے سمجھا لینا
گر ستائے دل نادان تو ملنے آنا
ڈھونڈتی ہے ترے قدموں کو مری تنہائی
چاہو کرنا کوئی احسان تو ملنے آنا
اپنی سوچوں کے جزیروں میں ٹہلتے تنہا
تم جو ہو جاؤ پریشان تو ملنے آنا
بارشیں پیار کی برسیں تو صدا دے لینا
دل میں اٹھنے لگیں طوفان تو ملنے آنا
جب خیالوں سے کبھی مجھ کو ہٹا نہ پاؤ
خواب بھی میرے ہوں ہر آن تو ملنے آنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






