دل میں غم کی اک جاگیر رہی
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky), K.S.Aمیں نے لاکھ بدل لیا خود کو مگر
دل میں غم کی اک جاگیر رہی
سارے خط جلا دیے پھر بھی
آنکھوں میں ُاس کی تصویر رہی
سب کچھ ہے یوں تو میرے پاس
اے ہمنوا ! تیری محبت کی فقط فقیر رہی
میں دھوڑ کر کیسے آ جاؤ تیرے پاس
میرے پاؤں میں تفرت کی زنجیر رہی
تجھ سے بھی کیا گلہ کیا شکوہ کرنا
تیرے پاس مجبوریوں کی تمیز رہی
زمانے نے بہت چاہا جدا کرنا لیکن
ہمیں ملانے والے تو خدا کی تقدیر رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






