دل ناداں تو پریشان نھ ھونا اب کے
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabadدل ناداں تو پریشان نہ ہونا اب کے
باعث ذود پشیمان نہ ہونا اب کے
ہم ہی کیا کیا نہ کریں حیلے بہانے ان سے
تو ملا قات کا سامان نہ ہونااب کے
تجھ سے مانوس نہیں موسم گل بھی شا ید
رونق بزم گلستان نہ ہونا اب کے
یہ سر شام طلاطم ہے کہاں تک جایز
سحر تک گرمئ طوفان نہ ہونا اب کے
ان شراروں سے دہک جاءے نہ اک دم صحرا
چشم مخمور سے حیران نہ ہونااب کے
سارے بہتان زمانے کے ترے نام لگیں
اس قدر شوخئ عنوان نہ ہونا اب کے
دیکھ کر دام ہمہ رنگ زمیںقیدنہ ہو
اس قدر حاصل آسان نہ ہونااب کے
بات اتنی سی ہے طاہر کہ فسانہ نہ بنے
گردش سخن درو بام نہ ہونا اب کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






