دل نے تیرے رستے سالہا سال دیکھے
Poet: Asad By: Asad, mpkپیار میں تیرے ھم نے بڑے زوال دیکھے
کبھی خوشی دیکھی اور کبھی ملال دیکھے
تیرے بغیر کوئی لمحہ خالی نہیں گزرا اپنے
یاد کی تیرے پہرے ھم نے ہر پل فعال دیکھے
تم نہیں آئے ادھر میرے یار کسی صورت
اپنے دل نے تیرے رستے سالہا سال دیکھے
اے کاش تیرے دل میں بھی ہو کبھی پیدا
عشق والی جنبش کرکے تو بھی دھمال دیکھے
ھے کس کی مجال کہ اٹھائے نگاہ تیری طرف
ھے کس میں حوصلہ تیری تجلیئے کمال دیکھے؟
اسد ہو کس سے بیان نالہ غم کا اپنے؟؟؟
ھے کون جو اپنی طرف کر کے خیال دیکھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






