دل نے دیکھا اُسے اور مچلتا ہُوا
Poet: Khan Muhammad Imran - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarدل نے دیکھا اُسے اور مچلتا ہُوا
اُس مہمان کی طرف بڑھنے لگا
میں نے روکا بہت، یہ پھسلتا ہوا
اُس مہمان کی طرف بڑھنے لگا
بہت سنبھالا مگر یہ سنبھلتا نہ تھا
بہت روکا مگر دل، کہ روکتا نہ تھا
بات بدلنے سے سوچیں بدلتی نہ تھیں
نظریں اُس سے کسی اوڑ پھرتی نہ تھیں
دل نے دیکھا اُسے اور مچلتا ہُوا
اُس مہمان کی طرف بڑھنے لگا
میں بہانے سے اُس کے پاس جانے لگا
دل کے احوال اُس کو سُنانے لگا
کبھی لرزتا، کبھی لڑکھڑاتا ہوا
اُس کی نظروں سے نظریں بچاتا ہوا
اُس کے ارد گرد چکر لگانے لگا
پیار باتوں، باتوں میں جتانے لگا
دل نے دیکھا اُسے اور مچلتا ہُوا
اُس مہمان کی طرف بڑھنے لگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






