دل کا حال سنانے نہیں دیتا
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMمجھےاپنےدل کا حال سنانے نہیں دیتا
اس سےکتنا پیارہے یہ بات بتانےنہیں دیتا
تنہا رہ رہ کر وہ اتنا پتھر دل ہو گیا ہے
اپنےسوئے ہوئےجذبات جگانےنہیں دیتا
جی چاہتا ہے کےمیں ابھی اس سےجاملوں
مگر وہ مجھےاپنے شہر آنے نہیں دیتا
اس کی جدائی کےجو زخم ہیںسینےمیں
انہیں کسی کو دکھانےبھی نہیں دیتا
جب کبھی بھولےسےآتا ہے خوابوں میں
مجھےاپنی نظروں سےدور جانےنہں دیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






