دل کو تڑپانا چھوڑ دے
Poet: Mohammad Ifzan Arshad By: Mohammad Ifzan Arshad, islamabadمیری تاریک دنیا میں شمع جلانا چھوڑ دے
اے نازنیں مجھ کو دیکھ کر مسکرانا چھوڑ دے
یہ کیا کم سزا ہے کہ میں اب سو نہیں پاتا
کچھ چین لینے دے سپنوں میں آنا چھوڑ دے
باتوں باتوں میں دور جانے کی بات کرتی ہو
صاف کیوں نہیں کہتی مسکرانا چھوڑ دے
لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان رستوں سے مت گزر
دل یہ کہتا ہے گلی کوچہ شہر زمانہ چھوڑ دے
افزان نہ مجنون بن نہ ہی تیشہ فرہاد اٹھا
پروانہ بن جل، راکھ ہو دل کو تڑپانا چھوڑ دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






