دل کو کبھی سمجھا نہیں پاتی

Poet: afera By: raja ghias...abad, munic germany

کبھی دروازہ ھوں دیکھتی کبھی چھت پھ ھوں جاتی
میں بھی کیا پاگل ھوں کہیں چین نہیں پاتی

جانتی ھوں ھوا نے ہلا یا ھے آج پھر دروازہ
مگر کیا کروں تیرے آنے کی آس نہیں جاتی

تیرا انتظار کانٹے چبھوتا ہے اب تن بدن میں
کوئی بھی سانس درد سے خالی نہیں جاتی

جب سے تیرے نام لگی ہوں گاؤں کے رستے تکنے لگی ہوں
شب وصل ہے کہ نہیں آتی جان ہے کہ مگر نہیں جاتی

لوگ بھی کہتے ہیں حالات بھی بتاتے ہیں کہ تو ہرجائی ہے
مگر تجھ سے دل کا رشتہ ہے میں دل کو کبھی سمجھا نہیں پاتی

دم نکلنے سے پہلے وہ آ جائے تو اچھا ہے عافرہ
کہ مٹی کی ڈھیری کبھی لذت ملاقات نہیں پاتی

Rate it:
Views: 697
23 Jun, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL