دل کی آواز کو سنو تم
Poet: Umer Maqbool Ajiz By: Umer Maqbool Ajiz, Lahoreدل کی آواز کو سنو تم
ہلکی سی آس کو سنو تم
میرے جزبات کو سنو تم
دیکھو حالات کو سنو تم
کیوں ہو بے زار شاعری سے
شاعر اس خاص کو سنو تم
لو میری بات کو سنو تم
دل کی اک مات کو سنو تم
سنتے ہو روز قصے کافی
میرے بھی راز کو سنو تم
کیسا ٹوٹا ہے دل یہ جاناں
لو اس کی ہار کو سنو تم
آتی اس موت کو سنو تم
ہوتی اس رات کو سنو تم
ٹوٹی اس سانس کو سنو تم
اب میری بات کو سنو تم
کرنی ہے گر نجات حاصل
مسلم عادات کو سنو تم
جنت مقصود ہےتو پھر لو
مومن کی ذات کو سنو تم
بننا ہے گر بڑا ہی تم کو
چھوٹوں کی بات کو سنو تم
لکھتا ہے خوب شعر عاجز
اس کے اشعار کو سنو تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






