دل کی بات
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMاپنے دل کی بات میں اسے کہتا کہتا رہ گیا
وہ اپنی بات آنکھوں کی زبانی کہتا کہہ گیا
میں اس کے حسن میں کچھ ایسا کھو گیا
اس کے بعد کچھ کہنے سے شرماتا رہ گیا
میرے قریب سے گزرا کچھ اس انداز سے
اس کی خوشبو سے سانسوں کو مہکاتا رہ گیا
شاید میرے مقدر میں اس کا ساتھ نہ تھا
تصور ہی تصور میں اسے اپنا ہمسفر بناتا رہ گیا
وہ چل دیا اپنے پیارے دوست سے روٹھ کر
اور میں اس سے بچھڑ کر روتا رہ گیا
سبھی لوگ گھروں میں جا کے سو بھی گئے
میں اپنی محبت کی داستاں سناتا رہ گیا
میں اس کی جدائی کا غم سہہ نہ سکا
پھر تمام عمر دیواروں سے سر ٹکراتا رہ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







