دل کی بستی

Poet: maqsood hasni By: maqsood hasni, kasur

کچھ کہنے کی اچھا ہو تو
اپنے نیتر کے در بند کر دو
بصارت کے کتاب دریچوں میں
کہرا بن دو
کہنا سننا تم پر رکھا
کلیوں سےکومل جذبوں پر
کیا گزرے گی
پگلے دل کی بستی
تذبذب کے تند بھوکم سے
کیونکر اور کیسے
بچ پاءے گی

Rate it:
Views: 359
30 Nov, 2013
More Life Poetry