دل کی حدت سے آؤ پگھلا لیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیادل کی وادی میں اب غمی نہ رہے
حال دل کا یہ ماتمی نہ رہے
زندگی میں بھی زندگی نہ رہے
" عشق مرشد یہ بے بسی نہ رہے"
میری آنکھوں میں تازگی نہ رہی
نغمے ہونٹوں پہ شبنمی نہ رہے
کیا کروں گی میں ان ستاروں کا
چاند میں بھی جو چاندنی نہ رہے
تیری یادوں کے آسماں پہ ابھی
چاند تاروں کی اب کمی نہ رہے
دل کی حدت سے آؤ پگھلا لیں
برف ہجرت کی یہ جمی نہ رہے
"سانس ٹوٹے مگر تھمی نہ رہے"
پھر بھی ممکن ہے زندگی نہ رہے
جب سے پتھر کے ہو گئے ہیں ہم
میرے کوچے میں آدمی نہ رہے
چاند تارے سجائیں گر محفل
شب کے ہونٹوں پہ خامشی نہ رہے
اب پلا دو نہ گھول کر امرت
میرے ہونٹوں پہ تشنگی نہ رہے
وشمہ میں تو یہ چاہتی ہوں سدا
میری دشمن سے دشمنی نہ رہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






