دل کی خوشی کے لئے جیتے ہیں (گیت)
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgدل کی خوشی کے لئے جیتے ہیں
ہم صرف تیرے لئے جیتے ہیں
سن سکو تو ہماری التجا سن لو
دل کو تیری ضرورت ہے یہ تیرا سن لو
تیرے بن ہے جیون ویران سن لو
دل کی خوشی کے لئے جیتے ہیں
ہم صرف تیرے لئے جیتے ہیں
تڑپتا ہے من تیرے دیدار کے لئے
دل کی لگی بن گئی روگ جاں کے لئے
اب نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں زندگی کس کام کے لئے
دل کی خوشی کے لئے جیتے ہیں
ہم صرف تیرے لئے جیتے ہیں
آج پھر داغ نیا دل پے سجایا ہے صنم
آج پھر تیرے خیال سے اس وحشیکو بہلایا ہے صنم
آج پھر اپنے لہو سے الفت کا دیپ جلایا ہے صنم
دل کی خوشی کے لئے جیتے ہیں
ہم صرف تیرے لئے جیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






