دل کی دیوار پہ وہ اتنا سجاتا ہے مجھے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاآئینہ پیار کا ہر وقت دکھاتا ہے مجھے
دل کی دیوار پہ وہ اتنا سجاتا ہے مجھے
کیسا اعزاز دیا ہے یہ خدا نے مجھ کو
"میرا دشمن مرے لہجے میں بلاتا ہے مجھے"
وہ مری جانِ محبت ہے ،مرا بخت بھی ہے
ہائے یہ شوق وفاؤں کا ہی آتا ہے مجھے
میں چلی آتی ہوں سب چھوڑ کے اپنی راہیں
جب مرا پیار محبت سے بلاتا ہے مجھے
اتنا جلتی ہوں کہ مٹ جاتی ہے میری ہستی
وہ جلاتا ہے تو پھر اتنا جلاتا ہے مجھے
اُس کی آنکھوں میں ہیں نفرت کے اشارے دیکھو
پھر بھی آدابِ محبت وہ سکھاتا ہے مجھے
خونِ دل دے کے جسے پیار سے سینچا وشمہ
میرے آنگن میں لگا پیڑ گراتا ہے مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






