دل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا

Poet: یونس تحسین By: Hassan, Islamabad

دل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا
تجھ سے یارانہ ہے یارانہ محبت نہ بنا

میں تجھے دل کی سناتا ہوں مجھے تو دل کی
اس سہولت کو مری جان اذیت نہ بنا

ہم کو لے دے کے تعلق ہی بچا ہے تیرا
اس کو مشکوک نہ کر باعث تہمت نہ بنا

ایک دیوار نے رشتوں کا تقدس توڑا
بھائی روکا تھا تجھے گھر میں یہ لعنت نہ بنا

نیند کو طاق پہ دھر اور دیا پہلو میں
گریۂ آخر شب میں کوئی دقت نہ بنا

بیٹیاں رزق میں برکت کا سبب ہوتی ہیں
گھر کی رحمت کو غلط سوچ سے زحمت نہ بنا

عکس کا ہونا ہے مشروط ترے ہونے سے
خود کو پہچان مگر عکس کو حیرت نہ بنا

ہو بہ ہو اس کی اداؤں کی ادا لازم ہے
یار کی سنت مسعود کو بدعت نہ بنا

اختلافات ہیں انسان کا خاصہ تحسینؔ
بحث کرنی ہے تو کر بحث کو نفرت نہ بنا

Rate it:
Views: 351
17 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL