دل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا
Poet: یونس تحسین By: Hassan, Islamabadدل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا
تجھ سے یارانہ ہے یارانہ محبت نہ بنا
میں تجھے دل کی سناتا ہوں مجھے تو دل کی
اس سہولت کو مری جان اذیت نہ بنا
ہم کو لے دے کے تعلق ہی بچا ہے تیرا
اس کو مشکوک نہ کر باعث تہمت نہ بنا
ایک دیوار نے رشتوں کا تقدس توڑا
بھائی روکا تھا تجھے گھر میں یہ لعنت نہ بنا
نیند کو طاق پہ دھر اور دیا پہلو میں
گریۂ آخر شب میں کوئی دقت نہ بنا
بیٹیاں رزق میں برکت کا سبب ہوتی ہیں
گھر کی رحمت کو غلط سوچ سے زحمت نہ بنا
عکس کا ہونا ہے مشروط ترے ہونے سے
خود کو پہچان مگر عکس کو حیرت نہ بنا
ہو بہ ہو اس کی اداؤں کی ادا لازم ہے
یار کی سنت مسعود کو بدعت نہ بنا
اختلافات ہیں انسان کا خاصہ تحسینؔ
بحث کرنی ہے تو کر بحث کو نفرت نہ بنا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






