شور سے پاک شب و روز گزارے گھر میں

Poet: یونس تحسین By: Zaid, Sialkot

شور سے پاک شب و روز گزارے گھر میں
ہم کہ ترسے ہی رہے کوئی پکارے گھر میں

ہم یتیموں کو کہاں آتے تھے نخرے کرنے
یعنی جھگڑا نہیں ہوتا تھا ہمارے گھر میں

ہم تو بس ایک ہی کونے میں پڑے رہتے تھے
اور محرومی رہا کرتی تھی سارے گھر میں

آیتیں کان میں پڑتی تھیں سحر ہونے پر
ہم تو رہتے تھے جہاں بھر سے نیارے گھر میں

ایک ممتا تھی جسے ہم نے خدا سمجھا تھا
جب وہ ہنستی تھی اترتے تھے ستارے گھر میں

ایک حسرت کہ میں حقے کی چلم بھر کر دوں
ایک خواہش کہ مرا باپ کھنکارے گھر میں

چار دیواری تھی غربت بھی تھی یعنی تحسینؔ
ایک دیوار زیادہ تھی ہمارے گھر میں

Rate it:
Views: 650
17 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL