دل کی لگی
Poet: By: Uzma Ahmad, Lahoreدل کی لگی کچھ اور بھی دل کو دیوانہ کرے
میری التجا ہے خدا سے دعا ہے
دو دل جدا نہ کرے
دیوانے چپ کیسے رہیں
دنیا سے یہ کیسے کہیں
جنہیں ہم سے ملنا گوارہ نہیں ہے
ہم سے ملا نہ کرے
دل کی لگی کچھ اور بھی دل کو دیوانہ کرے
بانہیں لے کے بانہوں میں ہم
لکھتے جائیں راہوں میں ہم
وہ دل ہی نہیں ہے جو نام محبت
نام وفا نہ کرے
دل کی لگی کچھ اور بھی دل کو دیوانہ کرے
میری التجا ہے خدا سے دعا ہے
دو دل جدا نہ کرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






