دل کے انکار پہ مت سوچ کہ ڈر جاؤں گی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, MOSCOWدل کے انکار پہ مت سوچ کہ ڈر جاؤں گی
رفتہ رفتہ اسی منکر میں اترجاؤں گی
قطرہ قطرہ جو ٹپکتا ہے ترا غم مجھ میں
میں کسی روز ترے درد سے بھر جاؤں گی
کربلا سے ہے وہ رشتہ جو سکینہ کا ہے
سو دم واپسی رستے میں ہی مر جاؤں گی
گھر سے نکلی تھی گرا کر درو دیوار کو میں
ذہن میں تھا نہ کبھی لوٹ کے گھر جاؤں گی
ان کی آغوش میں اترے گی یہ صدیوں کی تھکن
سر پہ باندھےہوئے جب رنج سفر جاؤں گی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






