دل کے تاروں کو چھیڑتی ہوئی تحریر ہو تم
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillدل کے تاروں کو چھیڑتی ہوئی تحریر ہو تم
میرے جذبوں کی نکھرتی ہوئی تصویر ہو تم
جنکے پہلو سے نکلتے ہیں حسن کے معنی
ان تمناؤں کی البیلی سی تعبیر ہو تم
یہ میرا جوگ مجھے ہر گھڑی بتاتا ہے
جسے لکھا ہے وارث شاہ نے وہی ہیر ہو تم
تمہارے ناز اٹھاتے ہیں چاند کے ہالے
رات کے ماتھے سے اٹھتی ہوئی تنویر ہو تم
حسن احساس کا دعوی ہے تم ہو مصرعہء فیض
حسن ادراک یہ کہتا ہے غزل میر ہو تم
ایک تم سے ہی تو سیکھا ہے لفظ کا مطلب
حاصل شوق میرے ذوق کی توقیر ہو تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






