دل کے دریا میں تیرے اترنا چاھتا ہوں
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK دل کے دریا میں تیرے اترنا چاھتا ہوں
میں تیرے پیار میں ڈوب مرنا چاھتا ہوں
نہیں خواھش کوئی اک ما سوا اس کے۔
بس ترے ساتھ جینا مرنا چاھتا ہون۔
لوگ پاگل کہیں چاھے دیوانہ مجنوں مجھے۔
ایسی محبت میں یار تجھکو کرنا چاھتا ہوں۔
اپنے ہاتھوں سمیٹو تم میرا بکھرا وجود۔۔۔
تمہارے دامن میں ٹوٹ بکھرنا چاھتا ہون۔
مجھ کو پرواہ نہیں اسد زمانہ کچھ بھی کہے۔۔۔
بس تیرے حوالے میں خود کو کرنا چاھتا ہون۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






