دل کے زخم
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, Birminghamہر کسی کو دل کے زخم دکھایا نہ کرو
مگر اس دوست سے کچھ چھپایا نہ کرو
پلکوں کے پیچھے آنسو چھپایا نہ کرو
یوں ہمارے دل میں درد جگایا نہ کرو
دشمنوں کے طعنے تو سہہ سکتے ہیں
تم ہم پہ الفاظ کے تیر چلایا نہ کرو
تم چلے جاتے ہو تو مجھے نیند آتی
ہو سکے تو میرے خوابوں میں آیا نہ کرو
سنا ہے غم باٹننے سے کم ہوتا ہے
ہمیں بھی کبھی حال دل سنایا کرو
جو لوگ وفا کے معنی نہ جانیں
ایسے کم ظرفوں کو جام وفا پلایا نہ کرو
مقدر پر کسی کا زور نہیں ہے
جو مل جائے خوشی خوشی جھولی پایا کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






