دل کے ہاتھوں مجبور

Poet: رعنا کنول By: Raana Kanwal, Islamabad

دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے ہم نے
اس کے بارے میں ایک بار سوچا ضرور
مگر نہ جانے کیوں اس بار بھی
دل نے پھر سے جھٹک دیا یہ خیال یوں
اگر آیا ایک بار بھی دوبارہ اسکا خیال
تو یاد رکھنا ہوئی قسمت تیری پھر خراب
ذھن میں رکھ لے اپنے یہ بات حضور
خیال اچھا ضرور ہے مگر انجام بہت دور
ماضی کو اپنے بھول جا
نکل جا ان دھندلی یادوں سے آگے خوشیوں کے راستوں پر
کٹھن ضرور ہے سفر یہ تنہائی کا
مگر ایک بار چل پرا توں تو کٹ ہی جائے گا
آئینے کی دھول میں چھوڑ جا اپنے بیتے پلوں کو
نکل پر خوبصورت پلوں کی جستجو میں
چھوڑ دے اسکا خیال کنول اپنے خیالوں میں
دہمی قدموں سے چل پر نی اور کی جانب
دل میں سلگتے شلوں میں جلا دے اسکی یادوں کو
سامنے منزل تیری ہے چوم لے اسکو
 

Rate it:
Views: 711
12 Jun, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL