دل ہے نادان
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Ulfat, Rawalpindiدل ہے نادان اس کو دوا دیجیے
کوئی مرض نہ ملے تو جلا دیجیے
آپ کو دیکھ کر یہ دھڑکنے لگا
میں تو بے بس ہوں اس کو سزا دیجیے
کل تلک مسکراتا تھا تمہیں دیکھ کر
آج آپ دیکھ کر مسکرا دیجیے
میں مر کر بھی تم سے نبھاتا رہوں گا
مجھ کو ایسا درس وفا دیجیے
تشنگی میں سدا ہی میں جلتا رہوں گا
جام آنکھوں کا مجھ کو پلا دیجیے
یہ میرے سامنے اگر منزل نہیں
رستہ مجھ کو نیا پھر دکھا دیجیے
اس سے پہلے کہ لوگوں میں رسوا کرے
اشتیاق راز جو بھی ہے سب کو بتا دیجیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







