دلوں کے حاکم ہیں انمول خزانے والے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiدلوں کے حاکم ہیں انمول خزانے والے
محفلیں لوٹ کے لے گئے مسکرانے والے
دل سے اٹھتی تھیں جنہیں دیکھ کر موجیں اکثر
وہی طو فاںتھے میری کشتی کو بہانے والے
خدارا اک ہلکا سا تبسم تو نظر کی جئیے
ہاتھ دل پہ رکھے بیٹھے ہیں چاہنے والے
کتنے صحراؤں کو گلشن کی صورت دے کر
خود تو تشنہ لب بیٹھے ہیں پلانے والے
تیری صورت سے بڑا پیار ہے زمانے کو
کس ناز سے یہ بنائی ہو گی بنانے والے
شب ہجراں یہ اشکوں نے بتایا ہم کو
یہ تیری ہی عطا ہیں لوٹ کے جانے والے
راہ الفت کے مسافر کی کہانی سن کر
توبہ توبہ بہت کرتے ہیں آشیانے والے
جان لے لو ہم پھر بھی نہ بھولیں پیارے
ہم تو محبت کے سبھی ناز ہیں اٹھانے والے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






