دلِ مضطر ترا نقصان نہیں ہونے دیا

Poet: علی رقی By: علی رقی , Faislabad, Pakistan

دلِ مضطر ترا نقصان نہیں ہونے دیا
وادئ ہجر کو ویران نہیں ہونے دیا

ہم نے مقتل میں بھی سر دے کے بچایا اس کو
حضرتِ عشق کو قربان نہیں ہونے دیا

کیا ہوا تجھ کو جو ٹھہرایا نہیں ہے دل میں
تو نے ہم کو بھی تو مہمان نہیں ہونے دیا

اپنی تذلیل کو اتنا ہی بہت یے مرے دوست
جسم کو زینتِ شمشان نہیں ہونے دیا

روح کو بیچ کے اک جسم خریدا میں نے
مجھے اس جسم نے بے جان نہیں ہونے دیا

چیر کر دل کو تری یاد سے پیوند کیا
ہجر کے زخم کو درمان نہیں ہونے دیا

اس نے دل چاہا سو سینے کو خودی چاک کیا
اپنے دشمن کو پریشان نہیں ہونے دیا

Rate it:
Views: 211
06 Aug, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL