دن رات،زمانہ ہی سکھاتا ہے جانِ من
Poet: Syed Arif Saeed Bukhari By: Syed Arif Saeed Bukhari, Rawalpindiدن رات،زمانہ ہی سکھاتا ہے جانِ من
منظر یہ زندگی کا دکھاتا ہے جانِ من
جاں سے گذر کے دیکھ لیاہم نے دوستو
کب کوئی ایسے ساتھ نبھاتا ہے جانِ من
نظارے ، دو گھڑی تھے ،کہیں کھو گئے ہیں سب
ایسا مقام سب پہ ہی آتا ہے جانِ من
ہم نے تو اعتبار کیا،تُم پر تمام عمر،
کیوں اور مجھ کو پھرستاتا ہے جانِ من
ہے انتظار ، اُس کا بُخاری ، وہ آئے گا
اب دیکھئے کہ کب وہ آتاہے جانِ من
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






