دن رات گزرتے ہیں انکے تصور میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, MOSCOWدن رات گزرتے ہیں انکے تصور میں
دل میرا مندر ہے یادوں کے چراغاں میں
چاہت کے سہارے پر تیری شعاعت پر
وشمہ کو بھروسہ ہے اسکے ایمان پر
لکھ دے میری قسمت میں اسکے در کی جبیں
جس در کی زیارت کا ہے ارمان مجھے
پوچھے گے لوگ کیا لائے تو کہہ دینا
پیار و وفا خلوص ہے میرے پاس ساتھ
صنم تم ہو چاہت ہو اس زمانے کی
چاہا ہے تمیں ہم نے زیادہ زمانے سے
دیوانی سنھبل جائے اگر تیری گلی میں
دید کی شیدائی ہوں قسمت بدل جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






