دنیا کے ہیں حالات ذرا اور طرح کے

Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D , U M T A T A (RSA)

دنیا کے ہیں حالات ذرا اور طرح کے
اور اپنے خیالات ذرا اور طرح کے

گو عشق سے ہوتا ہے جنوں سب کو میسر
مجھ پر ہیں اثرات ذرا اور طرح کے

کیوں سو نہ سکھا رات کو اب کیسے بتاؤں
مہمان تھے کل رات ذرا اور طرح کے

دل توڑیں کئی لوگ شب و روز‘ پر ان سے
ہیں شکوے شکایات ذرا اور طرح کے

ہم لوگ بھی تو رینگتے رہتے ہیں زمیں پر
ہم سب بھی ہیں حشرات ذرا اور طرح کے

خون آپ کو کچھ ان پہ نظر آ نہ سکھے گا
زخمی ہیں مرے ہاتھ ذرا اور طرح کے

کرتے ہیں جو ہنس ہنس کے وہ کچھ اور ہیں باتیں
اور دل میں ہیں جذبات ذرا اور طرح کے

غافل نہیں دنیا سے کہ ہرچند ہمارے
مجروح ہیں جذبات ذرا اور طرح کے

چاہا تھا ندیم عشق میسر ہو سکوں سے
پر ہیں مرے دن رات ذرا اور طرح کے
 

Rate it:
Views: 813
21 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL