دنیا کے ہیں حالات ذرا اور طرح کے
Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D , U M T A T A (RSA)دنیا کے ہیں حالات ذرا اور طرح کے
اور اپنے خیالات ذرا اور طرح کے
گو عشق سے ہوتا ہے جنوں سب کو میسر
مجھ پر ہیں اثرات ذرا اور طرح کے
کیوں سو نہ سکھا رات کو اب کیسے بتاؤں
مہمان تھے کل رات ذرا اور طرح کے
دل توڑیں کئی لوگ شب و روز‘ پر ان سے
ہیں شکوے شکایات ذرا اور طرح کے
ہم لوگ بھی تو رینگتے رہتے ہیں زمیں پر
ہم سب بھی ہیں حشرات ذرا اور طرح کے
خون آپ کو کچھ ان پہ نظر آ نہ سکھے گا
زخمی ہیں مرے ہاتھ ذرا اور طرح کے
کرتے ہیں جو ہنس ہنس کے وہ کچھ اور ہیں باتیں
اور دل میں ہیں جذبات ذرا اور طرح کے
غافل نہیں دنیا سے کہ ہرچند ہمارے
مجروح ہیں جذبات ذرا اور طرح کے
چاہا تھا ندیم عشق میسر ہو سکوں سے
پر ہیں مرے دن رات ذرا اور طرح کے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






