دو لاین شاعری
Poet: M Masood By: M Masood, Nottingham(94)
سوچتا ہی رہتا ہوں وہ جہان کیسا ہے
دوسری طرف سے وہ آسمان کیسا ہے
(95)
مانگ کر دیکھا تجھے میں نے خدا سے بھی مگر
اس دعا کی عمر بھر تاثیر میں الجھا رہا
(96)
زندگی میں غم نہ ہو تو زندگی بیکار ہے
آنکھ تیری نم نہ ہو تو ہر خوشی بیکار ہے
(97)
رنگ و رونق سے نہیں بنتا ہے انساں دلفریب
خوبصورت دل نہ ہو تو دلکشی بیکار ہے
(98)
شعر کہنے اور سننے میں بڑا ہی لطف ہے
جب نہ ہو پیغام تو پر شاعری بیکار ہے
(99)
کل تلک تو ہنستا تھا آج رو رہا ہوں میں
رنج اور خوشی میں اب فاصلہ نہیں کوئی
(100)
کتنے اشک چھپا رکھے ہیں
چیر کے دیکھو دِل بادل کا
(101)
دل میں درد ہے ہلکا ہلکا
جنت کا خواہاں ہے لیکن
(102)
تیرے وعدے پر نہ آنے سے رہا بے چین میں
رات ساری میں تیری تصویر میں الجھا رہا
(103)
عید کا چاند نظر آئیگا وہ بھی کبھی تو دیکھیں گے
ان کا بھی دیدار ہو شاید ایسا بھی ہو سکتا ہے
(104)
دل دھڑکنے کی یہ صدا کیا ہے
دل کو آخر مرے ہوا کیا ہے
ان کی آنکھوں کو پڑھ لیا لیکن
ہم سے مت پوچھئے لکھا کیا ہے
(105)
پڑھنے والے پڑھ گئے آنکھوں کی اس تحریر کو
آنکھ ان کی بولتی ہے لب مگر خاموش ہیں
(106)
جو کچھ بھی میں نے چاہا وہ مجھ کو ملا نہیں
اس پر بھی مجھ کو کوئی کسی سے گلہ نہیں
مکر و فریب دہر کا دستور بن گیا
سچ بات یہ ہے کوئی بھی حق آشنا نہیں
(107)
پیار کے بدلے میں ہم کو بھی تو کچھ پیار ملے
ایک بھی شعر نہ بن پایا خوشی میں مجھ سے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






