دو لفظ لکھ دیئے تھے کبھی مدحِ یار میں
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiہر آن کلفتوں کے رھا زیرِ بار میں
پھر دل نہ لگا میرا جہانِ فگار میں
تیری مفارقت کے وہ لمحاتِ جاں گزیں
کچھ اس قدر بڑھے کہ ہوا بے قرار میں
آغازِ محبت میں تجھے کھو دیا اگر
ہم کسطرح رہینگے خوشی کےحصار میں
تجھ سے جدا ہوئے تو ہوا دل بہت اداس
اب رت بھی اک ہنسی کی نہیں اختیار میں
دل کو اداس کر گئی یک دم کسی کی یاد
آنکھیں چھلک پڑی ہیں غمِ ہجرِ یار میں
فرقت کی ساعتوں نے کیا اتنا دل فگار
تجھ سے بچھڑ کے آ پنھسا غم کے حصار میں
کہنے لگی ہے دنیا دیوانہ مجھے نثار
دو لفظ لکھ دیئے تھے کبھی مدحِ یار میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






