دور رہ کر بھی تو ہوتی ہے ملاقات کبھی
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanدور رہ کر بھی تو ہوتی ہے ملاقات کبھی
خواب میں ہی سہی ملتا ہے ترا ساتھ کبھی
مجھکو نادان سمجھتے ہیں زمانے والے
ان کو آتی ہے سمجھ میں بھی کوئی بات کبھی ؟
میری الفت نے تو بس اتنی تمنا کی ہے
کاش ہو جائے ترے ساتھ بسر رات کبھی
یاد آتے ہیں وہ گزرے ہوئے دن رات مجھے
بھول پاؤں گی نہ الفت بھرے لمحات کبھی
تم کو معلوم نہیں درد محبت کیا ہے
تم نے جھیلے ہی نہیں ہجر کے صدمات کبھی
آنکھ بھر آتی ہے جب سوچتی ہوں میں سارہ
ایسے تو آئے نہ تھے زیست میں حالات کبھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







