دور نظروں سے کیا وہ ہوا مہتاب
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiدرد شعلہ بنا دیکھتے دیکھتے
سارا تن من جلا دیکھتے دیکھتے
جل گیا کوئی یوں ہجر کی آ گ میں
راکھ کا ڈھیر تھا دیھکتے دیکھتے
دور نظروں سے کیا وہ ہوا مہتاب
سارا منظر بجھا دیکھتے دیکھتے
اُس کی نیلاب آنکھوں کی گہرائیاں
ڈوب جانا میرا دیکھتے دیکھتے
حسن میں تھا عجب ناگ سا بانکپن
زہر چڑھتا گیا دیکھتے دیکھتے
سخت دشوار تھا دل سے دل کا سفر
بن گیا راستہ دیکھتے دیکھتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







