دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
Poet: Abu Daud By: MOHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, JHELUMجاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے
دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
ہم ہیں اہلسنت ہم نے پاکستان بنایا تھا
ہم نے ہی انگریز یہاں سے انگلستان بھگایا تھا
ہم نے ہی وہ پرچم تھاما جس پہ چاند ستارا ہے
جاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے
دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
فضل حق کا نعرہ حق ہے اب تک یاد زمانے کو
جس کا اک فتویٰ تھا کافی افرنگ کے لرزانے کو
اہلسنت کاوہ مجاہد جس سے باطل ہارا ہے
جاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے
دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
نعیم الدین، امیرملت،ابوالحسنات کو یاد کرو
بنارس کانفرس کی قدروقیمت کا احساس کرو
ہندو،فرنگی،گانگریسی ملا،سکھ کو لتاڑا ہے
جاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے
دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
ہر اک سنی عالم اب بھی رہبر ہے اس ملت کا
امریکی ازم جن کی نگاہ میں رستہ ہے ذلت کا
اللہ کے قرآن کے ہوتے ہر اک ازم ناکارہ ہے
جاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے
دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
امریکی اشارے پہ چلنے والو راہ راست مدینہ ہے
سرخ گوریلو عشق محمدؐکامیابی کا زینہ ہے
دنیا والو ہر لاء پر قانون الہی بھاری ہے
جاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے
دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
اپنے وطن کو ہم امریکی سازش سے بچائیں گے
دشمن کی ہر تصویر سے پردہ اٹھائیں گے
حق کے مقابل آئے کوئی کس میں اتنا چارہ ہے
جاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے
دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
نازک وقت ہے آؤ بھائیو !کفر کا سینہ چاک کریں
اپنا وطن ہے سارا اس کونا پاکی سے پاک کریں
پاکستان ہمارا ہے سارے کا سارا ہے
جاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے
دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
پاکستان کو اب سب مل کر پاکستان بنائیں گے
قبلہ اول اور کشمیر سے دشمن بھگائیں گے
دارالسلام سے کفرستان کو پھر للکارا ہے
جاگ اٹھے ہیں اہلسنت گونج اٹھا یہ نعرہ ہے
دور ھٹو اے دشمن ملت !پاکستان ہمارا ہے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا
کوئی فیصلہ تو سنا دے اے عادل
اسیری میں جینا ہے توہین میری
مجھے دار پر تو چڑھا دے اے عادل
کہاں عدل مجھ کو زمیں پر ملے گا
کوئی راستہ ہی دکھا دے اے عادل
مجھے اگلی تاریخ میں اب خدارا
قیامت کا دن ہی بتا دے اے عادل
وہ مجرم ہے اس کی جگہ ہے کٹہرا
اسے تخت سے تو اٹھا دے اے عادل
رِعایا پہ قانون جو چل رہا ہے
وہی حاکموں پہ چلا دے اے عادل
فقط جو کتابوں میں دم لے رہا ہے
وہ قانون سارا جلا دے اے عادل
کہیں میں نہ اپنی عدالت لگا لوں
مرے مجرموں کو سزا دے اے عادل
وکیلوں کا بکنا عیاں ہو چکا ہے
تو اپنی حقیقت دکھا دے اے عادل
کبھی بھاگ پائیں نہ جس سے یہ غاصب
کوئی جیل ایسی بنا دے اے عادل
جہاں قاتل باعزت اور مظلوم بے سکون یہاں
دلیل اگر سچ ہو، تو جرم بن جاتی ہے
جھوٹ اگر بااثر ہو، قسم کھا لی جاتی ہے
لب سِل گئے، قلم توڑا گیا، حق کی بات ٹھکرائی گئی
پھر بھی انصاف کے مندر میں، رام کہانی سنائی گئی
کمرہ عدالت میں منصف تو تھا مگر انصاف نہ تھا
ایک اسٹیج تھا ایک اسکرپٹ تھا ڈر کا تماشا تھا
فیصلے طے تھے پہلے سے فیصلہ ساز بعد میں آیا
سچ کے گواہ مر گئے اور جھوٹا گواہی لے آیا
کیا یاد ہے وہ شخص؟ جو حرفِ حق کہتا تھا
آج اس کا سایہ بھی قید ہے وہ خود کیا کہتا تھا؟
یہ نظام، یہ دربار، یہ نیلامی کا موسم ہے
وہ بازار ہے جہاں سچ کی بولی لگتی ہر دم ہے
مگر سن لو...
اندھوں کی عدالتیں رہتی نہیں قائم ہمیشہ
اندھیرا حد سے بڑھے ضرور سورج چمکتا ہے وہاں
وہ جو سچ ہے وہ اک دن لوٹ کر آئے گا
جو فیصلہ ظالم نے دیا — وقت اُسے مٹائے گا






