دوستو درد پلاؤ کہ کڑی رات کٹے

Poet: ساغر نظامی By: Tamur Lohani, Sialkot

دوستو درد پلاؤ کہ کڑی رات کٹے
مے میں کچھ اور ملاؤ کہ کڑی رات کٹے

آنسوؤں سے یہ کڑی رات نہیں کٹ سکتی
آج مے خانہ لنڈھاؤ کہ کڑی رات کٹے

نغمے بازار میں مہنگے ہیں تو کیا غم یارو
نوحے کو نغمہ بناؤ کہ کڑی رات کٹے

زیست اور موت اساطیر کہن ہیں یارو
نیا افسانہ سناؤ کہ کڑی رات کٹے

کوئی مشہود ہے اب اور نہ کوئی شاہد
اور اگر ہے تو دکھاؤ کہ کڑی رات کٹے

یہ بھی ایمان ہی کا دوسرا رخ ہے لوگو
کفر کو دین بناؤ کہ کڑی رات کٹے

یہ اندھیرا یہ سمندر یہ تلاطم آؤ
آؤ اور مجھ میں سماؤ کہ کڑی رات کٹے

Rate it:
Views: 612
17 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL