دَرد دے کر دَوا نہیں کرتا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiدَرد دے کر دَوا نہیں کرتا
ظُلم ایسا خُدا نہیں کرتا
چاند تارے بھی توڑ کر لا دو
اِنس پِھر بھی وَفا نہیں کرتا
یہ بھی محبوب کی عنایت ہے
ہِجر سے جو رِہا نہیں کرتا
اب کے سنگدِل وہ یوں ہُوا ہے کہ
خواب میں بھی مِلا نہیں کرتا
یُوں وَڈیروں کا خوف چھایا ہے
کوئ مَنگتا صَدا نہیں کرتا
یار نے خُوب ظُلم ڈھاۓ ہیں
پِھر بھی دِل ہے گِلا نہیں کرتا
حُسن تو بےقصُور ہے باقرؔ
اِنس ہے جو وَفا نہیں کرتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






