دُکھ بھی ملیں تو مسکرایا کرو

Poet: Mian Amar By: Mian Amar, muzafar garh

دُکھ بھی ملیں تو مسکرایا کرو
اپنے رُخ پہ خوشیاں سجایا کرو

ایک دن ضرور بن جاؤ گے شہنشاہ
ہم فقیروں کے پاس آیا جایا کرو

دلِ مُضطرب کو مِل جائے گی راحت
روتے ہوئے بچوں کو ہنسایا کرو

اوروں پہ تو اُٹھاتے ہو اُنگلیاں
خود کو بھی آئینہ دکھایا کرو

آخر کب تک رہو گے پردہ نشین
کبھی کبھی تو جلوہ دکھایا کرو

سُکھ میں تو ہر کوئی ہوتا ہے ساتھ
دُکھ میں بھی کسی کے کام آیا کرو

دُشمنی سے کیا حاصل ہو گا لوگو
دوستی کے لئے ہاتھ بڑھایا کرو

امر ہر خطا ہو جائے گی درگزر
روٹھے ہوئے یار کو منایا کرو

Rate it:
Views: 676
29 May, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL