دُکھ تو ہوتا ہے (ایک دوست کا منظوم دُکھ)
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiدُکھ تو ہوتا ہے
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
کھُلے نہ آنکھ، گر تڑکے
صُبح ہو بیگم سے لڑ، کے
اِستری ٹُوٹ جائے تو
اور جَل کوئی سُوٹ جائے تو
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
فریج میں بٹر، پگھل جائے تو
کچن میں دُودھ اُبَل جائے تو
ذرا سا توس جَل جائے تو
نَمَک چائے میں ڈَل جائے تو
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
بچّہ اِسکُول نہ جائے گر
روز سَر دَرد بتائے گر
کھیلنے میں دِن بِتائے گر
ٹیسٹ میں زیرہ لائے گر
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
مُقدّر پھُوٹ جائے تو
اگر بَس چھُوٹ جائے تو
دُوسری دیر سے آئے تو
کنڈکٹر، چھت پر بِٹھائے تو
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
مِلے نہ سیِٹ گر بَس میں
مُسافر لڑ جائیں آپس میں
کنڈکٹر شور مچائے تو
کِرایہ زائد بتائے تو
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
بس آہستہ چَلوائے تو
جگہ جگہ رُکوائے تو
سواری بھرتا جائے تو
بس کو دھکّا لگوائے تو
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
آفس لیٹ آئیں گر
باس باتیں بنائیں گر
خُوب ہی جھاڑ پِلائیں گر
اور ساتھی کھِلکھِلائیں گر
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
آنکھ دفتر میں لگ جائے
کلائینٹ، آ کر اُٹھائے
شِکایت، باس سے لگائے
باس میِٹنگ بھی بُلوائے
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
پروموشن ہم نہ پائیں تو
جونئیر، سینئر ہوجائیں تو
ہمیں آ کر چِڑائیں تو
مِٹھائی تک نہ کھِلائیں تو
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
جلدی گھر تو جانا ہو
مگر نہ پاس بہانہ ہو
بہت سا کام نمٹانا ہو
کلوزنگ کا زمانہ ہو
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
بیگم سبزی پکائے، گر
اُسے عُمدہ بتائے، گر
زَبردَستی کھِلائے، گر
پھر تعریف کروائے، گر
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
یاروں سے مِلنے جائیں تو
اُنہیں سب دُکھ بَتائیں تو
وہ اپنا کلام سُنائیں تو
مِزاح سے ہنسائیں تو
یقیناً دُکھ تو ہوتا ہے
بہت ہی دُکھ تو ہوتا ہے
قسم سے دُکھ تو ہوتا ہے
(قارئینِ کرام، یہ دُکھی بِپتا ہمارے ایک دوست کی ہے، جِن کے مذکُورہ دُکھ سُننے کے باوجوُد، ہم نے اپنا مِزاحیہ کلام اُنہیں سُنانے کی کوشش کی تھی اور نتیجتہً اُنہیں مزید دُکھ پہنچایا تھا۔ واقعی جب اِتنے بڑے بڑے دُکھ ہوں تو خوشی کہاں سے آئے؟ چونکہ اُن کے کُچھ دُکھ اور بھی لوگوں سے مِلتے جُلتے تھے اِس لئے ہم نے اُن کے دُکھ منظوم بیان کر دیئے ہیں تاکہ وہ مزید دُکھی نہ ہوں۔
اللہ آپ سب کو خوش رکھے، آمین)
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






