دُھواں دُھواں سبھی منظر دِکھایٔ دیتے ہیں

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

دُھواں دُھواں سبھی منظر دِکھایٔ دیتے ہیں
مجھے سلگتے ہوۓ گھر دِکھایٔ دیتے ہیں

مدافعت کا طریقہ بھی خوب تر ہے یہ
ہر ایک ہاتھ میں پتھر دِکھایٔ دیتے ہیں

قریب ہیں جو رگِ جاں سے بھی مری بڑھ کر
سدا وہی تو سِتم گر دِکھایٔ دیتے ہیں

نظر اٹھاتی ہوں جب اپنے خیمۂ جاں پر
قدم قدم بڑے محشر دِکھایٔ دیتے ہیں

قریب جاؤں تو صحرا کی مِثل ہیں وہ بھی
تِری نظر میں جو ساگر دِکھایٔ دیتے ہیں

یہ بے زمینی کے سارے اندھیرے مجھ تک ہیں
جو دُور سے مہ و اختر دِکھایٔ دیتے ہیں

کبھی تو تھے وہی تسکینِ جاں کا پہلو بھی
جو بزمِ غیر میں اکثر دِکھایٔ دیتے ہیں

مجھیُ پہ عذراؔ مسلط ہے پیاس کا صحرا
قدم قدم پہ سمندر دِکھاِیٔ دیتے ہیں
 

Rate it:
Views: 759
20 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL