دِل دَکھاؤ گے دِل دَکھے گا بھی ۔۔۔۔
Poet: UA By: UA, Lahoreدِل دَکھاؤ گے دِل دَکھے گا بھی
دِل جلاؤ گے دِل جلے گا بھی
میں کوئی کانچ یا پتھر تو نہیں
یہ میرا دِل کوئی کھلونا نہیں
تَم سمجھتے ہو کوئی پتھر ہوں
یا سمجھتے ہو میں کھِلونا ہوں
سنگ ہے آئینہ، مے خانہ ہے
میرا دل، دل نہیں کھلونا ہے
دل سے جب چاہو کھیل کے توڑو
چاہو جب آئینے سے رَخ موڑو
چند لمحے یہاں قیام کرو
اور مے خانہء دِل کو چھوڑو
توڑ کے چھوڑ کے منہ موڑ کے جب جاؤ گے
تو کہاں میرے دل میں دل کا سکوں پاؤ گے
ایک تنہا شکستہ دِل بھلا ہنسے کیسے
کیسے خوشیاں منائے اور مَسکرائے کیسے
روئے بِن کیا سکون پائے گا
کیسے خوش ہو کے مَسکرائے گا
خود ہی دِل جلاتے دِل دَکھاتے ہو
اور کہتے ہو دِل جلاؤ نہ
مجھ سے کہتے ہو مَسکراؤ نہ
جان۔۔۔! ایسے تو دِل دَکھاؤ نہ
میں کوئی کانچ یا پتھر تو نہیں
یہ میرا دِل کوئی کھِلونا نہیں
دِل دَکھاؤ گے دِل دَکھے گا بھی
دِل جلاؤ گے دِل جلے گا بھی
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






