ہے رت بہار کی دل میں مگربہار نہیں

Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistan

ہے رت بہار کی دل میں مگر بہار نہیں
میں بے قرار ہوں مجھ کو کہیں قرار نہیں

وفا کے نام پہ اتنے فریب کھائے ہیں
تری نگاہ کرم کا بھی اعتبار نہیں

جو پھول تو نے دیے تھے سنبھال رکھے ہیں
اگرچہ ان میں وہ پہلے سا اب نکھار نہیں

مرے صیاد کی مرضی ہے گھٹ کے مر جاؤں
مجھے تو آہ بھی بھرنے پہ اختیار نہیں

وہ جس کے پھولوں کو خون جگر سے پالا تھا
اسی چمن کی فضا آج سازگار نہیں

ہے مفلسوں کے لیے موت زیست سے بہتر
یوں ایک بار وہ مرتے ہیں بار بار نہیں

لہو مین ڈوب رہی ہے گلی گلی زاہد
ہے کون شہر میں جو ظلم کا شکار نہیں

Rate it:
Views: 504
16 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL